گلگت بلتستان Zahid Nawaz Adil

گلگت بلتستان میں افراتفری کا ذمہ دارکون؟

Share Post

گلگت بلتستان صوبائی اسمبلی کے انتخابات 15 نومبر 2020 کو منعقد ہوے -عبوری صوبائی اسمبلی کے عمل میں
آنے کے بعد یہ تیسرے عام انتخابات ہو رہے تھے۔تاریخ کے برعکس پہلی دفعہ وفاقی جماعتوں نے انتخابات میں بھرپور دلچسپی لی۔چئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری صاحب نے 22 دن،پی ٹی آئی کے علی امین گنڈاپور صاحب نے 16 دن جبکہ پی ایم ایل کی نائب صدر مریم نواز صاحبہ نے 8 دن گلگت بلتستان کے چپے چپے میں انتخاب کمپین چلائی۔
گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ سے واقف لوگوں کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ تحریک انصاف گلگت بلتستان میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائگی-خیر 15 نومبر صبح 8 بجے پولنگ کا آغاز ہوا اورشام پانچ بجے تک جاری رہا۔جما دینے والی سردی کے باوجود مجموعی ٹرناوٹ تقریبا 60 فیصد رہا۔خواتین،بوڑھے، جوان سب نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔گلگت بلتستان کے انتخابات کو پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کے پر امن ترین انتخابات کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔پوری پولنگ کے دوران کوئی بے ظابتگی،لڑائی جھگڑا یہاں تک کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان میں،تو بھی رپورٹ نہیں ہوئی۔
اب جب گنتی کا عمل شروع ہوا-دور دراز علاقوں سے نتائج آنے کا سلسلہ جاری تھا-اکثر انتخابی حلقوں کے غیر سرکاری ،غیر حتمی نتائج معلوم ہوچکے تھے۔حلقہ 2 گلگت جہاں سے سابق وزیر اعلی (پی ایم ایل این) گلگت بلتستان،سابق ڈپٹی سپیکر ( پی پی پی)گلگت بلتستان اور متوقع وزیر اعلی گلگت بلتستان مد مقابل تھے۔رات کے تقریبا 12 بجے جب65/73 پولنگ سٹیشنوں کا نتیجہ آچکا تھا پی پی پی نے اپنی کامیابی کا اعلان کر دیا۔جب تمام پولنگ سٹیشنوں کا نتیجہ آیا اور پتہ چلا کہ تحریک انصاف کے فتح اللہ خان کو فتح ہوی ہے۔پی پی نے نتیجہ قبول کرنے سے انکار کیا اور احتجاج کی کال دی-اس احتجاج میں بلاول بھٹو صاحب اور امجد ایڈوکیٹ صاحب نے جس طرح سے غیر ضروری طور پر لوگوں اشتعال دلایا وہ انتہائی افسوسناک ہے-سرکاری طور پر نتیجہ آنے سے پہلے من گھڑت کہانیاں جھاڑ کر کارکنوں کو مشتعل کیا۔جس سے گلگت بلتستان کے پر امن انتخابات اشتعال انگیزی اور افراتفری میں تبدیل ہو گئے۔حلقہ 3 غزر میں راجہ جہانزیب کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اسی حلقے میں ہی گنتی کے دوران ایک سیاسی پارٹی کے کارکن بیلٹ بکس لے کہ نو دو گیارہ ہوگۓ۔
اب صورت حال یہ ہے کہ ہر ہارنے والا شخص انتخابات کو دھاندلی شدہ کہ کر کاکنوں کے ہمراہ دھرنے دیے ہوے ہے۔بلاول بھٹو صاحب اور امجد ایڈوکیٹ صاحب کی ایک غلطی نے گلگت بلتستان کے امن کی دھجیاں اڑا کہ رکھ دی۔یہ وہ امن ہے جس کو گلگت بلتستان کی عوام نے بہت قربانیاں دے کہ حاصل کیا تھا۔ میری گلگت بلتستان کی عوام سے گزارش ہے کہ وہ کسی سیاسی پارٹی یا شخصیت کے مفاد کے لئے اپنے گھر کے امن کو خراب نہ کریں۔اللھ تعالی سے دعا ہے کہ اس سر زمین کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔
بقلم زاہد نواز عادل۔


Share Post

Recommended for you

Leave a Reply

Your email address will not be published.