Saifullah kaleeme Ghursay

نوجوانوں کے نام پیغام

Share Post


ویسے تو بہار کو خوشیوں کا موسم سمجھا جاتا ہے اس میں مختلف رنگوں کی پھولیں کھلتے ہیں جو اپنی خوشبو سے انسانوں کو اپنا دیوانہ بناتے ہیں ۔ کھیتوں میں ہری بھری فصلیں انگڑئیاں لے رہی ہوتی ہے ۔ ہوا کی معمولی سی جھنکے پر درختوں کی شاخوں پر موجود سر سبز پتے جھوم رہے ہوتے ہیں۔ پہاڑوں کی چوٹیوں سے آبشاریں اپنی مستی کے ساتھ کود رہے ہوتے ہیں۔ تہجد کی اذان سے شام کی اذان تک پرندوں کی شور و غول بہار کی خوبصورتی کو اور چار چاند لگا رہا ہوتا ہے۔

لیکن میں اس علاقے سے ہوں جو بہار سے نہیں بلکہ موسم خزاں اور موسم سرما سے پیار محبت کرتے ہیں ۔ آپ شاید مجھے نادان احمق پاگل سمجھ رہے ہوں گے۔ آپ کی جگہ پر آپ بلکل برحق سمجھ رہے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کون بےقوف بہار کو چھوڑ کر خزاں سے محبت کر سکتا ہے؟ لیکن حقیت یہ ہے خزاں میں اور سرما میں دریا کا پانی کم ہوتا ہے۔ اس موسم میں دریائ۔کٹاو نہیں ہوتا۔ ہم راتوں کو چین سے سو سکتے ہیں۔

میری اس نفرت کے پیچھے بہار کے بہت سے تاریخی خوف ناک مناظر ہیں ۔ مارچ کی ابتدا سے میں اپنی ہوش میں نہیں رہتا۔ کیوںکہ میں نے بہار میں، کئ گھروں کو اجڑتے دیکھا ہے۔ کئی کئی مائیں کو اپنی بچوں کے لیے چھت ڈنڈتے دیکھا ہے۔ کئی کئی باپ اس قدر بےسہارا تھا جو حکومت کی طرف سے آنے والے ریلیف یعنی امداد کی آس میں راتوں کو سڑکوں کے کنارے پر انتظار کر رہے تھے۔

کاش میرے علاقے کے سیاستدان اپنی آنا کو اپنی شخصیت پرستی کو اپنی پیٹ پوجاری کو چھوڑ کر غریب عوام کے بارے میں بھی کچھ سوچتے۔ میں نے جب سے ہوش سنبھلا ہے مجھے یہ سنے کو ملتا رہا ہے کہ اس دفع بند بھاندنے کے لیے پچاس لاکھ ملا ہے اس دفع ستر لاکھ اس دفع دو کروڑ۔ مجھےسمجھ نہیں آتا آیا یہ سارے پیسے کہاں ڈالے ہیں ۔ کہاں ہے دو کروڑ کا بند۔ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں اگر ستر لاکھ کا بند بھی ایمانداری سے بنایا ہوتا تو آج میرا گاوں تلوار کی طرح پتلہ نہ ہوتا۔
مجھے صرف سیاست دانوں سےشکایت نہیں بلکہ ان رہنماوں سے بھی شکایت ہے جو اپنی معمولی سی فائدے کے پیچھے اپنے محلے کے نادان اعوم کو بھی ورغلا رہے ہوتے ہیں۔ اور معمولی سی رقم دے کر انکی ضمیر خرید لیتے ہیں۔ مجھے شکایت گاؤں کے ان با شعور نوجوانوں سے بھی ہے جو آج بھی خاموشی سے یہ سب مظالم سہ رہے ہیں۔
آج تک گاوں میں پینے کا صاف پانی نہیں لیکن سب خاموش کھلاڑی بنے ہوے ہیں۔
الیکشن قریب ہے اور خوش قسمتی سے اس دفع سارے نوجوان گاؤں میں خدارا سب اپنی اپنی آنا چھوڑ کر صرف اس بار قوم کے خاطر سوچوں۔ اپنا اجنڈا بنایں اور جو سیاستدان ووٹ مانگنے اتے ہیں اسے پیش کریں۔ یہ وقتی ہاں کرے گا اس پر یقین نہ کریں بلکہ ان سے تحریری لکھ کر لیں۔ خدا کے لیے قوم کے خاطر ایک ہو جائں۔
اللہ‎ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔ آمین

Written By Saifullah Kaleeme (Graduated from KU) An emerging social worker and urdu poet in making.


Share Post

Recommended for you

Leave a Reply

Your email address will not be published.